ہاسن،21/دسمبر (ایس او نیوز) مرکزی حکومت کے آئین مخالف شہریت قانون کے خلاف شہر ہاسن میں امتناعی احکامات کی پرواہ کئے بغیر کمیونسٹ پارٹیوں، کانگریس اور جنتادل (ایس) کی جانب سے ہیماوتی مجسمہ کے قریب بھاری احتجاج کیا- صبح 10:45 بجے کثیر تعداد میں مذکورہ پارٹیوں کے رہنما، کارکن اور مقامی ہندو مسلمان جمع ہوئے اور مرکزی حکومت کے خلاف نعرے لگائے- اس موقع پر پولس افسروں نے دھرمیش ودیگر رہنماؤں کو گرفتار کرنے کوشش کی لیکن ناکام ہوئے جبکہ ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولس رام نواس سیفٹ، اے ایس پی نندنی، ڈی وائی ایس پی پٹا سوامی گوڈا نے احتجاجیوں کے ساتھ بات کی اور دوپہر 12بجے احتجاج ختم کرنے کی گزارش کی جس کے تحت احتجاج 12:05 بجے ختم کردیا گیا- احتجاجی جلسہ سے سی پی آئی ایم کے ضلع سکریٹری دھرمیش، کانگریس رہنما مہیش، نوین کمار، مسلم ہتا رکشنا وکوٹا کے صدر ناصر حسین رضوی وغیرہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہریت قانون کو منظوری آئین مخالف قدم ہے- جس کا مقصد ملک کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا ہے-انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل کررہی ہے- احتجاج میں سی پی آئی کے ضلع سکریٹری ڈاونگرے، ضلع کنوینر عبد الصمد، رعیت سنگھا کے ضلع صدر کوٹور سرینواس، ٹیپو سنگھرش سمیتی کے سید انصر، مفتی زبیر احمد و دیگر حاضر رہے-